اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم کے بدنام زمانہ عسکری نظریئے ''جنرلز پلان'' کو پیش کرنے والے معروف اسرائیلی کمانڈر جنرل گیورا ایلاند (Giora Eiland) نے غزہ کی جنگ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی شاندار فتح اور سفاک صیہونی فوج کی سنگین شکست کا اعتراف کیا ہے۔ صیہونی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل گیورا ایلاند نے کہا کہ حماس کو واضح فتح ملی ہے جبکہ صیہونی رژیم کو سخت شکست اٹھانا پڑی ہے۔ اس صیہونی جنرل نے قبل ازیں بھی اعلان کیا تھا کہ غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ اس وقت صیہونی معاشرے و فوج کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو چکی ہے لہذا اس جنگ کا تسلسل بیہودہ اور معاشی صورتحال انتہائی مشکل ہے۔ صیہونی جنرل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ غزہ اسرائیل کے لئے ایک بہت بڑی شکست ہے کیونکہ یہ جنگ اسرائیل کے کسی ایک ہدف کو بھی حاصل نہ کر پائی ہے درحالیکہ یہی معاہدہ 8 ماہ قبل بھی کہ جب اسرائیل کے مزید 120 فوجی ابھی مارے نہیں گئے تھے، دستیاب تھا۔
واضح رہے کہ اسی اسرائیلی فوجی کمانڈر نے جنرلز پلان یا ایلاندز پلان کے نام سے مشہور ہو جانے والا سفاکانہ منصوبہ بھی پیش کیا تھا جس کے تحت شمالی غزہ سے 4 لاکھ فلسطینی باشندوں کی جبری نقل مکانی اور نسلی تطہیر کے بعد اسے ایک محصور فوجی علاقہ بنا دینے کے ساتھ ساتھ اس پورے علاقے میں کسی بھی قسم کی خوراک، پانی یا امداد کا داخلہ ممنوع تجویز کیا گیا تھا تاکہ وہاں موجود حماس کے تمام مزاحمتکار بھوک و پیاس کی شدت سے دم توڑ جائیں۔ اس حوالے سے گذشتہ ستمبر میں جاری ہونے والے اپنے ویڈیو کلپ میں جنرل گیورا ایلاند کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں غزہ کی پٹی کے شمال میں موجود فلسطینی باشندوں کو بتا دینا چاہیئے کہ تمہارے پاس اس پورے علاقے کو خالی کرنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت ہے جس کے بعد اس علاقے کو ایک محدود فوجی زون میں بدل دیا جائے گا پھر وہاں موجود ہر شخص ایک جائز ہدف ہو گا نیز یہ کہ اس پورے علاقے میں کسی بھی قسم کی خوراک، پانی یا امداد کی بھی کوئی خبر نہ ہو گی۔ اس صیہونی جنرل نے انسانی حقوق کے تمام عالمی قوانین کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ محاصرہ نہ صرف ایک موثر عسکری حکمت عملی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے ساتھ بھی سازگار ہے!